حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علی رضا اعرافی نے قم المقدسہ میں منعقدہ چالیسویں بین الاقوامی کانفرنس وحدت اسلامی کے علمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہر مقدس قم کے تاریخی اور علمی پس منظر کی طرف اشارہ کیا اور کہا: قم کو ایک اعتبار سے اسلام اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی اشاعت اور تبلیغ کا تقریباً 1200 سالہ سابقہ حاصل ہے اور اس پوری تاریخ میں یہ شہر ہمیشہ عالم اسلام کے اہم علمی اور معرفتی مراکز میں شمار ہوتا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: گزشتہ ایک صدی کے دوران قم نے اسلامی معارف کی تخلیق، اشاعت اور فروغ کے میدان میں ایک ممتاز اور منفرد مقام حاصل کیا اور اسلامی افکار کی پیشکش اور توسیع کے لیے ایک متحرک مرکز میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اس شہر اور حوزہ علمیہ کی علمی و فکری سرگرمیوں کا دائرہ صرف روایتی اور تعلیمی مباحث تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں مختلف سماجی، سیاسی اور بین الاقوامی شعبے بھی شامل ہوگئے ہیں۔
آیت اللہ اعرافی نے امام خمینی (رہ) کے نئے فکری اور سیاسی تحریکوں کی تشکیل میں کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امام خمینی (رہ) ان جدید نظریات کے ایک اہم سرچشمہ تھے اور انہوں نے دینی معارف، سماجی فکر اور بڑے سیاسی مسائل کے درمیان ایک نیا ربط قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے مزید کہا: امام خمینی (رہ) علمی اور فقہی اعتبار سے بلند مقام رکھنے کے ساتھ نظریہ سازی کے میدان میں بھی بڑے اقدامات کیے اور اسلامی معاشرے کی ضروریات کے جواب میں متعدد نئے افکار پیش کیے۔ ان افکار کے اثرات اور نتائج ایران کی سرحدوں سے آگے بڑھ کر عالم اسلام کی تبدیلیوں اور بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں ہوئے۔
آیت اللہ اعرافی نے آیت اللہ حائری، آیت اللہ بروجردی، علامہ طباطبائی، شہید مرتضیٰ مطہری اور شہید بہشتی کو اس فکری تحریک کی نمایاں شخصیات میں شمار کرتے ہوئے کہا: ان میں سے ہر شخصیت نے اپنے دور میں حوزہ علمیہ کی علمی، فکری اور سماجی بنیادوں کو مضبوط بنانے اور مؤثر اسلامی افکار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے اسلامی نظریہ سازی کی تحریک میں امام خمینی (رہ) اور انقلاب اسلامی کے رہبر و امام شہید (رہ) کے خصوصی مقام پر تاکید کرتے ہوئے کہا: اس عظیم فکری قافلے میں امام خمینی (رہ) اور ہمارے رہبر، قائد اور امام شہید (رہ) کا مقام بے مثال اور ممتاز ہے۔
حوزہ علمیہ کے اعلیٰ کونسل کے رکن نے مزید کہا: ان دونوں عظیم قائدین نے نظریہ سازی اور نظریہ پردازی کے میدان میں بڑے اور مؤثر اقدامات کیے اور عملی میدان میں بھی سماجی اور سیاسی شعبوں کی تشکیل و تنظیم میں رہبر و پیشوا کا کردار ادا کیا۔ ان دونوں شخصیات کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے فکر اور عمل کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا بلکہ نظریات کی تشکیل اور وضاحت کے ساتھ ساتھ انہیں معاشرے میں عملی جامہ پہنانے کے لیے بھی کوشش کی اور مختلف میدانوں میں اہم اور مؤثر تبدیلیوں کا ذریعہ بنے۔
انہوں نے محبت اہل بیت علیہم السلام پر تاکید کرتے ہوئے کہا: محبت اہل بیت علیہم السلام کو ایک مشترکہ اصول کے طور پر اجاگر کیا جاسکتا ہے اور یہ مسلمانوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم صلاحیت فراہم کرسکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ